2 اکتوبر، 2026، 8:19 PM

دشمن نے دوبارہ کوئی حماقت کی تو ایران اپنی طاقت کے مزید نئے پہلو سامنے لائے گا، اعرافی

دشمن نے دوبارہ کوئی حماقت کی تو ایران اپنی طاقت کے مزید نئے پہلو سامنے لائے گا، اعرافی

امام جمعہ قم نے حالیہ جنگ، ایران کی دفاعی صلاحیت، مزاحمتی محاذ، خطے کی بدلتی صورتِ حال اور بیانیے کی جنگ کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ علی رضا اعرافی نے قم المقدسہ میں نمازِ جمعہ کے خطبوں میں حالیہ جنگ، ایران کی دفاعی صلاحیت، مزاحمتی محاذ، خطے کی بدلتی صورتِ حال اور جنگِ روایت کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگ اور دشمن کی جارحیت نے ایران اور مزاحمتی محاذ کی طاقت کے نئے پہلو دنیا کے سامنے واضح کیے ہیں۔ دشمن یہ بات جان لے کہ اگر اس نے دوبارہ کوئی حماقت کی تو ایران اپنی طاقت کے مزید نئے پہلو سامنے لائے گا۔

آیت اللہ اعرافی نے اپنے خطبے کے آغاز میں آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی کے انتقال پر تعزیت پیش کی اور ان کی فقہی، علمی اور حوزوی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے ہفتۂ دفاع مقدس کی مناسبت سے آٹھ سالہ دفاع مقدس کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے مسلح افواج، خصوصاً پولیس کی خدمات اور قربانیوں کی بھی قدردانی کی۔

حوزہ ہائے علمیہ ایران کے سربراہ نے کہا کہ پولیس کو سماجی اور ثقافتی مسائل کے حل کے لیے جہادی، انقلابی اور علمی انداز اختیار کرتے ہوئے عوام کی مشارکت کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔ بالخصوص حجاب و عفاف اور سماجی برائیوں کے مقابلے میں تمام متعلقہ اداروں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ قم حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی بارگاہ اور علم و دین کا مرکز ہے، اس لیے اس شہر کی دینی اور اخلاقی شناخت کے تحفظ کے لیے عوام، دینی شخصیات اور متعلقہ اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

آیت اللہ اعرافی نے ملک کے باصلاحیت نوجوانوں اور علمی ماہرین کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ افراد بنیادی ترقی اور پیش رفت کے اہم محرک ہیں۔ ذمہ دار اداروں کو چاہیے کہ وہ باصلاحیت نوجوانوں کی بھرپور حمایت کریں اور ان کی صلاحیتوں کو سائنسی، ٹیکنالوجی، اخلاقی، سماجی اور دیگر شعبوں میں ملک کی ترقی کے لیے بروئے کار لائیں۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی نوجوانوں کی غیر معمولی صلاحیتیں دفاعی اور عسکری میدان سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں ہوئی ہیں، اس لیے علمی اور فنی میدان میں بھی ان صلاحیتوں کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ موجودہ دور میں جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ جنگِ روایت بھی اس کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ دشمن ہزاروں ذرائع ابلاغ کے ذریعے جنگ کے حقائق اور اس کے مختلف پہلوؤں کو اپنی مرضی سے پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے عوام کو حقائق کے ادراک کے لیے بصیرت، استقامت اور مضبوط فکری بنیاد کی ضرورت ہے۔

انہوں نے حالیہ جنگ کے پانچ اہم نتائج کی طرف بھی اشارہ کیا۔ ان کے مطابق اس جنگ نے امریکہ اور اسرائیل کے بارے میں موجود بعض تصورات کو تبدیل کیا اور دنیا کے سامنے ان کے اقدامات کے مزید پہلو واضح ہوئے۔

انہوں نے فلسطینی عوام کے خلاف ہونے والی کارروائیوں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہوئے بعض مغربی اور علاقائی حکومتوں کے طرزِ عمل پر بھی تنقید کی۔

آیت اللہ اعرافی نے بعض عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور تعاون پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کی شہادتوں کے باوجود اسرائیلی حکام سے ملاقاتیں اور معاہدے مسلم دنیا کے لیے باعثِ افسوس ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم اقوام ان اقدامات کو فراموش نہیں کریں گی اور ایک دن ان حکام سے ان کے کردار کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایک عرصے سے دنیا میں امریکہ کے ساتھ براہِ راست مقابلے کا خوف پایا جاتا تھا، لیکن حالیہ جنگ میں ایرانی قوم نے ثابت کیا کہ وہ اپنے دفاع کے لیے امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں کھڑی ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس جنگ نے خطے میں طاقت کے توازن کے حوالے سے بھی نئے حالات پیدا کیے ہیں۔

آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ ایران نے ماضی میں بعض علاقائی ممالک کے ساتھ ہمسائیگی کے احترام میں احتیاط کا مظاہرہ کیا، لیکن حالیہ حالات کے بعد یہ حکمتِ عملی تبدیل ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایران کے خلاف براہِ راست کارروائی کی گئی تو ملک اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے جواب دے گا۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگ میں ایران کی طاقت کے نئے پہلو سامنے آئے ہیں اور آبنائے ہرمز اور باب المندب سمیت خطے کے اہم جغرافیائی مقامات کی اہمیت مزید واضح ہوئی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دشمن نے دوبارہ حملہ کیا تو ایران کے پاس مزید ایسے اقدامات اور صلاحیتیں موجود ہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

News ID 1941821

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha